Sub Categories

یوی اپنی ایک راز دار سہیلی سے کہہ رہی تھی ۔۔۔ اب میرا میاں مجھ سے کم پیار کرتا ہے ۔۔۔ پہلے پہار کرتے کرتے تکھتے نہیں تھے اب کرتے نہیں ہیں ۔۔۔ پہلے بات کرتے تھے ساری رات کرتے تھے ۔۔۔ اب بات بات پر ٹوکتے ہیں ۔۔۔ باہر جانے سے روکتے ہیں ۔۔۔ کل تو مجھے مارا بھی ۔۔ چہرہ پیلا ہوگیا ہے ۔۔۔ ہاتھ مار کی وجہ سے نیلے ہوگئے ۔۔۔ *الانکہ انھیں میرے گورے ہاتھ بہت اچھے لگتے تھے ۔۔۔۔
ہائے میرے نصیب ۔۔۔۔
آہ
وہ عرفان مجھ سے کتنا پیار کرتا تھا ۔۔۔
میرا کتنا خیال رکھتا تھا ۔۔
سکول چھوڑنے جاتا تھا ۔۔۔
لینے جاتا تھا ۔۔۔
اس سے شادی کرلیتی کتنا خوش رہتی ۔۔۔
اور وہ میری ساس اللہ کی پناہ۔۔۔
ہٹلر کی بیٹی ہے ۔۔
اس کی آنکھ میں میری خوبیاں بھی خامیاں نظر آتی ہیں ۔۔۔
بس یہی کچھ ہوتا رہتا ہے ۔۔۔
آخرکار خاوند مرجاتا ہے یا وہ بیوی مرجاتی ہے ۔۔۔
بچتا کیا ہے آہیں ۔۔۔
بیوی کی خاوندکے مرنے پر
یا خاوند کی بیوی کے مرنے پر۔

Loading views...



عورتوں کا سب سے بڑا جھوٹ ۔۔۔۔
” میں ان سے پوچھ کر بتاؤنگی میں کوئی کام اُن سے پوچھے بغیر نہیں کرتی ”

اور مردوں کا جھوٹ ۔۔۔۔۔۔۔۔
“میں اس سےنہیں پوچھتا ہمیشہ اپنی مرضی کرتا ہوں ”

Loading views...

‏اِس عید تے شاکر غربت ہے ـــــــــ
تینوں گفٹ دے بدلے گیڑا دیساں

Loading views...

وہ جس نے قیس وغیرہ کی جان لے لی تھی — !!
مرض ہمیں بھی وہی ہوگیا ہے،، کیا سمجھے

Loading views...


احصل على مصدر إلهام للمضي قدمًا من خلال تحويل الحزن إلى طاقة في هذا اليوم.
كل عام وأنتم بخير

Loading views...

*شوہر برائے فروخت*

بازار میں اک نئی دکان کھلی. جہاں *شوہر* فروخت کیے جاتے تھے۔

اس دکان کے کھلتے ہی عورتوں کا ہجوم بازار کی طرف چل پڑا… سبھی دکان میں داخل ہونے کے لیے بے چین تھیں!

دکان کے داخلہ پہ بورڈ پر کچھ *ہدایات اور شرائط* لکھی تھیں:

“” >> اس دکان میں کوئی بھی عورت یا لڑکی صرف ایک دفعا ہی داخل ہوسکتی ہے.

>> دکان کی 6 منزلیں ہیں، اور ہر منزل پر شوہروں کے اقسام کے بارے میں لکھا ہوا ہے.

>> خریدار عورت کسی بھی منزل سے شوہر کا انتخاب کر سکتی ہے.

>> مگر ایک بار اوپر جانے کے بعد پھر سے نیچے
نہیں آ سکتی سواے باہر نکل جانے کے.””

ایک خوبصورت لڑکی کو دکان میں داخل ہونے کا موقع ملا….

پہلی منزل کے دروازے پر لکھا تھا:
”اس منزل کے شوہر اچھے روزگار والے اور الله والے ہیں.”

*لڑکی آگے بڑھ گئی….*

دوسری منزل کے دروازہ پر لکھا تھا:
”اس منزل کے شوہر روزگار والے، الله والے ہیں، اور بچوں کو پسند کرتے ہیں.”

*لڑکی پھر آگے بڑھ گئی….*

تیسری منزل پر لکھا تھا:
”اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں، الله والے ہیں، بچوں کو پسند کرتے ہیں،
اور خوبصورت بھی ہیں.”

*یہ پڑھ کر لڑکی کچھ دیر کیلئے رک گئی مگر پھر یہ سوچ کر کہ چلو ایک منزل اور اوپر جا کر دیکھتے ہیں*

چوتھی منزل کے دروازے پر لکھا تھا:

”اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں، الله والے ہیں، بچوں کو پسند کرتے ہیں، خوبصورت بھی ہیں، اور گھر کےکاموں میں مدد بھی کرتے ہیں.”

*یہ پڑھ کر لڑکی کو غش سا آنے لگا، سوچا کہ ياﷲ ایسے بھی مرد ہیں دنیا میں..! وہ سوچنے لگی کہ یہاں سے شوہر خریدے اور گھر چلی جائے. مگر پہر بھی اس کا دل نہ مانا تو ایک منزل اور اوپر چلی گئی.*

وہاں دروازہ پر لکھا تھا:

”اس منزل کے شوہر برسر روزگار ہیں، الله والے ہیں، بچوں کو پسند کرتے ہیں، بے حد خوبصورت ہیں، گھر کے کاموں میں مدد کرتے ہیں، اور رومانٹک بھی ہیں”

*اب اس عورت کے اوسان جواب دینے لگے وہ خیال کرنے لگی کہ اس سے بہتر مرد بھلا اور کیا ہو سکتا ہے. مگر اس کا دل پھر بھی نہ مانا وہ اگلی منزل اوپر چلی آئی.*

یہاں بورڈ پر لکھا تھا:

”آپ اس منزل پر آنے والی 3338 ویں خاتوں ہیں! اس منزل پر کوئی بھی شوہر نہیں ہے! یہ منزل صرف اس لئے بنائی گئی ہے
تا کہ اس بات کا ثبوت دیا جا سکے کہ
*عورت کو مطمئن کرنا ناممکن ہے!*
چلو گھر واپس

Loading views...


آج کل لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ادب ایک کیپسول میں بند کرکے ان کے حوالے کر دیا جائے ، جسے وہ کوکا کولا کے گھونٹ کے ساتھ غٹک سے گلے میں اتار لیں۔

مشتاق احمد یوسفی

Loading views...


ایک شیخ کے گھر سے بلی روتی ہوئی نکلی۔ کسی نے پوچھا کیا ہوا۔ بلی نے کہا
نالے مینوں ماریا نالے میرا چوہا کھو لیا

Loading views...

انباکس میں ھائے ھائے کرنے والو !!
ایتھے مرو ۔ تہاڈے جن کڈاں

Loading views...

اینہاں نکیاں نکیاں کنیاں وچ
تُو نال ہوندا بڑی چس آوندی💕

Loading views...


‏پاکستانی لڑکیوں کی مسلے
تم مری بات ہی نہیں مانتے 😑

اور جب بات مانو تو
تم نے مری بات کب سے ماننا شروع کر دی 😑

بندہ کرے تے کی کرے

Loading views...


Aik Bata apne maa sy Ami ma bra ho k palit bno ga
Ami Bata humy ksy PTA chaly ga k mara Bata kaha ha.
Bata Ami AP bilkul fikr na kry ma upr sy aik bamb pnkh du ga

Loading views...

شادی کے دوسرے دن میاں نے اپنی بیوی سے ناشتہ میں انڈہ کھانے کی فرمائش کر دی، بیوی نے خوشی خوشی آملیٹ تیار کر دیا مگر تنقیدی شوہر نے اعتراض لگایا کہ انڈہ تو اچھا ہے مگر میرا دل تو فرائی انڈے کا تھا، بیوی کو افسوس ہوا کہ وہ شوہر کی خواہش پر پوری نہیں اتر سکی ،
اگلی صبح بیوی نے شوہر کے کہنے سے پہلے ہی فرائی انڈہ پیش کیا تو تنقیدی شوہر نے پھر سے تنقید کر ڈالی کہ بیگم انڈہ تو اچھا ہے مگر آج میرا دل آملیٹ کھانے کا تھا، بیوی بیچاری پھر سے شرمندہ ہو گئی اور اگلی صبح ڈرتے ڈرتے آملیٹ اور فرائی دونوں انڈئے پیش کیے، شوہر تو تنقیدی تھا ہی اس نے دونوں انڈے غور سے دیکھے اور ناراض ہوتے ہوے کہا کہ بیگم میری اپنی رائے اور پسند پر تم کبھی نہیں اتر سکتی میری رائے کے مطابق جو انڈہ فرائی کرنا تھا وہ تم نے آملیٹ بنا دیا اور جس انڈے کو تم نے آملیٹ بنایا اسکو فرائی کرنا تھا…
ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے ذہین لوگ موجود ہوتے ہیں جن کا کام صرف اور صرف تنقید کرنا ہوتا ہے، وہ ہر عمل کو صرف اپنی نظر سے دیکھتے ہیں اور پھر اس پر بحث کرتے ہوئے اپنی زاتی پسند نا پسند کی وضاحت کر ڈالتے ہیں جو کہ انکی نظر میں حتمی اور صحیح ہوتی ہے،
ایسے لوگوں سے بحث کر کے جیتا نہیں جا سکتا ہاں مگر خاموشی ضرور اختیار کی جاسکتی…!!

Loading views...


– بصي انا محتاجة جاكيت و٢ بلوفر
* ايوة وانا زيك وضيفي عليهم بنطلونين جينز
– ايوة صح كمان زودي بنطلون جبردين عشان بحبهم اوي
*تمام وانا محتاجة بوط اسود وواحد هافان
-لا خليهم هاف بوط اشيك وطالعين موضة السنة دي
*تمام انتي معاكي كام ؟!
– انا معييش حاجة خالص
*وانا كمان والله ، اقطعي الورقة دي..

Loading views...

کبھی سردیوں کی بارش میں آئو ناں،
چائے میں مالٹے ڈبو ڈبو کے کھلائوں گا۔

😋😋😋😋

Loading views...